تُرکی بغاوت کااصل مُحرک

تُرکی کی حالیہ ناکام بغاوت چند دنوں ، چند مہینوں اور چند افراد کی محنت کا نتیجہ نہیں تھی ، بلکہ اس کے پیچھے ایک شخص کی پوری زندگی کی جدوجہد اور اس کے تیار کردہ لاکھوں لوگوں جو ترکی کے ہر محکمہ میں اعلی پوسٹوں پہ موجود ہیں ، کی مُسلسل محنت کا نتیجہ تھا،
اور اس کی پُشت پناہی عالمی سامراج بڑی ڈھٹائی سے کررہاتھا، جن لوگوں نے پہلے دوتین گھنٹے عالمی میڈیاپہ نظر رکھی ، وہ اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں ،
اس ناکام بغاوت کا بنیادی کردار فتح اللہ گولن نام کا ایک شخص ہے، جو اس وقت امریکی ریاست پنسلوانیا کی ایک شھر سالس برگ میں امریکی چھترچھایا تلے 400 ایکڑ یعنی 3200 کنال کے گھر میں عیش وعشرت کی زندگی گذار رہا ہے ، اس شخص کی سالانہ آمدن 31 بلین ڈالر سے زائد ہے،
فتح اللہ گولن ترکی کا متنازعہ ترین کردار ہے، جو چند لاکھ لوگوں کی نظر میں تو ہیرو ہے، لیکن ترکی کے کروڑوں عوام اسے مُلک و ملت کا باغی اور غدار سمجھتے ہیں ، تُرکی میں اس شخص کی جڑیں اتنی گہری ہیں ، کہ اب تک اس کے پیروکار ہزاروں کی تعداد میں ہر محکمہ سے گرفتار کئے جاچکے ہیں ، جن میں سے صرف عدلیہ میں سے 2500 سے زائد ججز اب تک گرفتار ہوچکے ہیں ، فتح اللہ گولن صرف ایک شخص نہیں ، ایک تحریک کانام ہے، اندرون خانہ ان کا نام ” جیش النور ” اور ” جنود الحق ” ہے جس سے وابستہ افراد صرف ترکی ہی نہیں ، بلکہ دنیا کے بہت سے ممالک خصوصا پاکستان اور بنگلہ دیش میں بھی سینکڑوں کی تعداد میں موجود ہیں اور فتح اللہ گولن کو پیغمبر یا نبی تو نہیں ، لیکن اس کے قریب قریب درجہ و مقام دیتے ہیں ،
فتح اللہ گولن 65 کُتب کا مصنف ہے، جن کا دنیا کی 35 زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے، اُس کی 13 کُتب کا اردو زبان میں بھی ترجمہ ہوچکا ہے، آڈیو و ویڈیو کیسیٹس کی تعداد ہزاروں میں ہے،
ترکی میں فتح اللہ گولن کے اثر و رسوخ کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے، کہ اس کے معتقد اعلی حکومتی شخصیات کے ٹیلی فون تک ٹیپ کرتے پکڑے گئے ہیں ،
آئیے دیکھتے ہیں
فتح اللہ گولن کون ہے؟
اس کی تاریخ کیا ہے؟
اور اس کا مشن کیا ہے؟
فتح اللہ گولن کی جائے پیدائش ایک چھوٹی سی بستی ہے،جس میں سال کے نوماہ موسم سرما رہتاہے۔اس بستی کانام کوروجک ( Korucuk) ہے،جو صوبہ ارض روم( Erzurum ) کے شہر’حسن قلعہ‘کاایک نواحی علاقہ ہے ۔اس بستی کی آبادی ساٹھ سترگھرانوں سے زائدنہیں۔ گولن کے آبا و اجداد‘‘اخلاط’’ نامی تاریخی گاؤں سے ہجرت کرکے یہاں آئے تھے۔ ‘‘اخلاط’’ صوبہ بتلیس میں پہاڑوں کے دامن میں واقع ایک چھوٹاساگاؤں تھا۔رسول اللہ (صلى الله عليه و سلم) کے صحابۂ کرام کی اولاد میں سے بعض حضرات وادی بتلیس کے علاقے کی طرف آئے اوراس علاقے کے لوگوں کے روحانی پیشوابن گئے،جس کے نتیجے میں اس علاقے کے ترک قبائل کے دلوں میں اسلامی روح جاگزیں ہوگئی۔
اس کوروجک نامی گاؤں کے امام مسجد رامز آفندی کے گھر 27 / 04 / 1941 کو پیدا ہونے والے بچے کا نام محمد فتح اللہ گولن رکھا گیا، یہ گھرانہ اتنا مذہبی تھا، کہ مصطفی کمال پاشا کی طرف سے مذہبی تعلیم پہ سخت پابندی کے باوجود اس کی والدہ اپنے گاؤں میں عورتوں اور بچیوں کو مذہبی تعلیم دیتی رہی ، اور کسی پابندی کی پرواہ نہ کی ، فتح اللہ گولن کی ذاتی ویب سائیٹ کے مندرجات جس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ، کے مطابق چار سال سے بھی کم عمر میں اپنی والدہ سے قرآن مجید ہڑھنا شروع کیا اور صرف ایک ماہ میں مکمل ناظرہ قرآن مجید ختم کرلیا، ( میں اس کا انکار اس لئے نہیں کرسکتا، کہ ماضی قریب کے کچھ ایسے لوگوں کو میں ذاتی طور پہ جانتا ہوں ، جنہوں نے مکمل حفظ قرآن صرف ایک ماہ میں کرلیا ، اور یہاں تو ناظرہ قرآن مجید کی بات ہے) گولن نے ابتدائی پرائمری تعلیم اپنے گاؤں کے اسکول ہی میں حاصل کرنا شروع کی ، اور عربی و فارسی زبانوں کی تعلیم وابتدائی دینی تعلیم اپنے والد رامز آفندی سے حاصل کرنا شروع کی ، کچھ عرصہ بعد آپ کے والدین اپنے بعض دوستوں کے ظلم و ستم و بیوفائی کا نشانہ بنے ، اور اس علاقہ کو چھوڑنے پہ مجبور ہوگئے ، دوسرے علاقہ میں چلے جانے کی وجہ سے ارض روم کے مختلف مدارس میں حصول تعلیم کا سلسلہ جاری رہا،
رامز آفندی کا تعلق علماء وصوفیاء سے بہت گہرا تھا، اور ان کا دستر خوان وسیع ہونے کی بناء پہ جید ترین علماء و صوفیاء کا ان کے گھر بہت آنا جانا تھا، علماء وصلحاء کی گفتگو اس کے کانوں میں پڑتی رہتی تھی ، اور ان سے ایک قلبی تعلق بننا شروع ہوگیا، اپنے بچپن کے دور میں جس شخصیت کے افکار و خیالات سے گولن بہت زیادہ متاثر ہوا ، ان کا نام شیخ محمد لطفی الوارلی تھا، پون صدی کے قریب وقت گذر جانے کے باوجود گولن آج بھی ان کا نام انتہائی احترام اور محبت سے لیتا ہے، اور اس بات کا برملا اعتراف کرتا ہے، کہ میں اپنے جذبات ، احساسات ، اور بصیرت میں بڑی حد تک ان سے سنی ہوئی باتوں کا احسان مند ہوں ، ایک وقت تھا ، میں ان کے منہ سے نکلنے والی ہر بات کو کسی دوسرے جہاں سے وارد ہونے والے الھامات سمجھتا تھا،
اوائل عمری میں جس دوسری شخصیت کا فتح اللہ گولن کی فکری و علمی نشو نما پہ گہرا اثر رہا، وہ اس زمانہ کے بہت بڑے عالم اور چوٹی کے فقہاء میں سے ایک نام ” عثمان بکتاش ” کی شخصیت ہے،
زمانۂ طالب علمی میں رسالۂ نور ، اور طلبۂ نور کی تحریک سے گولن کی شناسائی ہوئ، یہ ایک ہمہ گیر احیائی اور تجدیدی تحریک تھی، جس کے بانی خلافت عثمانیہ دور کے ممتاز عالم دین و مجاھد بدیع الزمان سعید النورسی رح تھے ( جنہیں مصطفی کمال پاشا کےدور میں زندگی کا زیادہ حصہ جیلوں میں گذارنا پڑا ، اور ان کے ہزاروں معتقدین کو پھانسیاں دی گئیں ) آخری بار جب ان کو جیل سے رہا کیا گیا، تو چھبیس رمضان کو رہا گیا ، اور ستائیس رمضان کو وہ اللہ کو پیارے ہوگئے، رحمہ اللہ رحمة واسعہ ، گولن اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ ان سے بھی بہت متاثر رہا اور ان کامعتقد تھا ، ( افسوس بعد میں وہ ان سب بزرگوں کی تعلیمات بھلا بیٹھا )
صرف چودہ سال کی عمر میں فتح اللہ گولن نے اپنے والد کی مسجد میں خطبۂ جمعہ دیا، جسے علاقہ کے لوگوں نے بہت سراہا ،
گولن نے سعید نورسی رح کے آئیڈیاز اور ان کی تحریک کو لوگوں تک پہنچانا شروع کیا ، انیس سال کی عمر میں گولن ارض روم کو چھوڑ کے مغربی ترکی کے شھر ادرنہ کا رخ کیا ، جسے ترکی کا مغربی دروازہ سمجھا جاتا ہے ، اسے اس شھر کی جامع مسجد ” اُچ شرفلی” کا امام و خطیب مقرر کیا گیا ، اڑھائی سال کے بعد یہاں سے ” کرکلارالی نامی شھر میں امام مقرر ہوا ، یہاں سے 1966 میں ازمیر میں تبادلہ ہوا ، پچیس سال کی عمر میں جب ازمیر شھر کی ایک مسجد میں گولن امام و خطیب تھا ، تو اس نے چھوٹے بزنس مینوں اور بیوروکریسی کے افراد کو نورسی تحریک کے روشن اصول و ضوابط کے ذریعہ اپنے حلقۂ اثر میں لانا شروع کیا، ازمیر کی جامع مسجد ” کستانہ بازاری ” سے ملحق ” مدرسہ تحفیظ القرآن ” کو اپنا مرکز مقرر کر کے اپنے کام کا آغاز کیا ، قصبوں دیہاتوں چھوٹے اور بڑے شہروں میں وعظ کرنے شروع کئے ، اور اتنا مقبول ہوگیا ، کہ پورے صوبہ ارض روم اور دیگر صوبوں میں شیخ فتح اللہ کے نام سے مقبول ہو گیا ،
1970 کے آغاز میں تربیتی کیمپ لگانے شروع کئے اور اپنا حلقۂ اثر وسیع کرنا شروع کردیا ، مارچ 1971 میں اس وقت کی حکومت پہ فوجی دباؤ کے نتیجہ میں گولن کو اس الزام میں گرفتار کرلیا گیا، کہ گولن ملکی نظام کی اقتصادی ، سیاسی اور معاشرتی بنیادوں کو تبدیل کرنے کی کوشش کررہا ہے، چھ ماہ کے بعد عام معافی کا اعلان کیا گیا ، اس کے نتیجہ میں گولن کو بھی رہا کردیا گیا،
یہی وقت تھا ، کہ گولن کی سوچ و فکر میں یہ تبدیلی آئی ، کہ جب تک فوج اور بیورو کریسی میں وسیع پیمانے پہ اپنے ہم خیال لوگ نہیں ہوجاتے ، کامیابی ناممکن ہے،
ارباب اختیار نے گولن کو پہلے ادرمیت پھر مانیسا ، اور اس کے بعد ازمیر کے ایک علاقہ بورنوا کی طرف منتقل کیا، 10 سال کا عرصہ گولن کو فٹ بال کی طرح مختلف علاقوں میں لُڑھکاتے رہے، لیکن گولن جس علاقہ میں بھی گیا ، اپنی تقاریر اور شعلہ بیانی سے لوگوں کو متاثر اور اپنے قریب کرتا رہا ،
گولن بنیادی طور پہ قوم پرست ہے، اور اس کی سوچ و فکر کا بنیادی زاویہ ترکی میں قوت و طاقت کا حصول و ذاتی معاشی استحکام تھا، گولن وجودی فلاسفہ مارکوس ، البرٹ کامو ، اور سارتر سے بہت زیادہ متاثر ہے،
1980 کے بعد کمالسٹ فوج اور بیورو کریسی کی مدد سے گولن نے ” خدمت ” ( ترکی نام ہیزمت ) تحریک کی ابتدا کی ، شام کے ایک ممتاز عالم الشیخ محمد وائل الحنبلی جن کی خدمت تحریک کے سرکردہ افراد سے تقریبا دس سال قبل شام اور کویت میں ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں ، کےبقول خدمت تحریک کے سرکردہ افراد جب شام اور کویت میں تبلیغ کے بہانہ سے آتے تھے، تو انکا اصل مطمع نظر بڑے بڑے بزنس مینوں سے اور سرکردہ افراد سے ملاقات اور ان کو اپنے حلقۂ اثر میں لانا اور ان سے چندہ بٹورنا ہوتا تھا، تصوف سے وابستہ لوگوں کے سامنے یہ فتح اللہ گولن کو بہت بڑا صوفی بنا کے پیش کرتے ، سائنٹسٹوں کے سامنے بہت بڑا سائنٹسٹ ، علماء کے سامنے بہت بڑا عالم اور حافظ الحدیث، سیاست دانوں کے سامنے بہت بڑا سیاست دان بنا کے پیش کرتےوغیرہ وغیرہ ،
خدمت تحریک نے اپنے کام کا آغاز ترکی میں اسکولوں ، اکیڈمیوں ، اور تربیتی مراکز کے قیام سے کیا ،جن میں پہلے درجہ سے ہی انگلش تعلیم لازمی تھی، مرد وخواتین اساتذہ کے درمیان ناجائز تعلقات کی حوصلہ افزائی کی جاتی، نیز بارہ چودہ سال کے بچے اور بچیاں جو نوجوانی کی دھلیز پہ قدم رکھ رہے ہوتے تھے ، کو بھی آپس میں تعلقات بنانے کی طرف راغب کیا جاتا، اس سسٹم آف اسکول میں پڑھنے والے بچوں کے لئے ھاسٹل میں رھنا لازمی ہے، نیز سرکاری اسکولوں کے گریڈ آٹھ تک کے وہ بچے جو لائق ہوتے تھے ، ان کے والدین سے ملاقاتیں کرکے ان کو یہ لالچ دیا جاتا کہ اگر آپ کے بچے ہمارے اسکولوں میں تعلیم حاصل کریں گے، تو فوج ، پولیس ، عدلیہ وبیورو کریسی کے دیگر محکموں میں ان کی ملازمتیں ہماری ذمہ داری ہے ،
کچھ عرصہ بعد دیگر اسلامی و مغربی ممالک میں بھی مہنگے مخلوط اسکول بنانے شروع کئے ،
1998 میں پوپ جان پال دوئم کی دعوت پہ اس سے اور کچھ ہی عرصہ بعد صیہونیوں سے ملاقاتوں کے بعد فتح اللہ گولن نے فتوی جاری کیا، کہ یہودی اور عیسائی بھی جنت میں جائیں گے ، اور قرآن مجید یا احادیث میں جنت کا جو وعدہ صرف مسلمانوں کے لئے مسلم اسکالر پیش کرتے ہیں ، یہ عرب کے جاھل بدؤوں کی طرف سے قرآن میں کی گئی تحریف ہے، ( نعوذ بااللہ )
اس فتوی کے بعد صیہونی سرمایہ کاروں کی طرف سے گولن کو اس کی تنظیم خدمت کے لئے لاکھوں ڈالر کے عطیات دئے گئے، جن سے اس نے ترکی اور دیگر ممالک میں اپنے اسکولز کی تعداد تین ہزار تک بڑھالی ، اور پھر ان اسکولوں کی آمدن سے پہلے جرائد و رسائل ، پھر ریڈیو اسٹیشنز ، پھر ٹی وی و دیگر شعبوں بنکنگ ، اسٹاک ایکسچینج وغیرہ میں سرمایہ کاری کی گئی ،
ترکی میں اس وقت آٹھ ٹی وی اسٹیشن فتح اللہ گولن کی ملکیت ہیں ،
تُرکی کے جن ڈراموں کو پاکستان میں بڑی محبت اور عقیدت سے دیکھا جاتا ہے ، وہ ڈرامے گولن ٹی وی نیٹ ورک ہی کے تیار کردہ ہوتے ہیں ، ان تمام کاروبارز سے 2013 تک گولن تحریک ( خدمت ) کی آمدن 30 بلین ڈالر سالانہ سے زائد تھی
امریکہ میں موجود صیہونی لابی کے تعاون سے گولن نے امریکہ میں 129 اسکول قائم کئے ، جن کی سالانہ آمدن 400 ملین ڈالر ہے،
پاکستان ، بنگلہ دیش ، ودیگر اسلامی ممالک میں خدمت نے صیہونی فنڈنگ سے سینکڑوں اسکول قائم کئے ہیں ، جن کا بظاہر دعوی یہ ہے، کہ ہم ٹرکش کلچر اور ٹرکش زبان کے فروغ کے لئے کام کر رہے ہیں ، ان اسکولوں کے قیام کے لئے ٹرکش نیشنلسٹ بزنس مینوں سے بھی کروڑوں ڈالر عطیات لئے گئے ہیں ، نیز امریکہ میں موجود صیہونی لابی سے بھی کروڑوں ڈالر کے عطیات لئے گئے ہیں ، جو تجربہ وہ کامیابی سے ترکی میں کرچکے ہیں ، وہی تجربہ پاکستان ، بنگلہ دیش ودیگر کئی عرب و مسلم ممالک میں کرنا چاہتے ہیں ، کہ فوج اور سول بیوروکریسی میں ہمارے لوگ موجود ہوں ،
تُرکی میں اس وقت کوئی محکمہ ایسا نہیں ، جس میں گولن کی تنظیم خدمت کے افراد کلیدی عہدوں پہ موجود نہ ہوں ،
گولن نے 1980 کے جنرل کنعان ایورن کے مارشل لاء کی ظاہری بھی اور اندرون خانہ بھی بہت زیادہ حمایت کی تھی ، انعام کے طور پہ فوجی حکومت نے گولن کو مالی انعامات سے نوازا ، ” زمان ” اخبار جو اس سے قبل ایک چھوٹا سا علاقائی اخبار تھا دفعتاً پورے ملک کا دوسرے نمبر کا بڑا اخبار بن گیا، گولن 2013 تک صدر رجب طیب اردگان کا بظاہر بہت بڑا حمایتی تھا،
لیکن اندرون خانہ گورنمنٹ میں مختلف خفیہ اقدامات خصوصا اعلی افسران کی فون ریکارڈنگ ، اور اس کے نتیجہ میں ان کو بلیک میل کرنا ، جعلی آڈیو ٹیپس بنانا ، اور اردگان کی پارٹی پر کنٹرول کرنے کی کوشش کرنے کی وجہ سے اردگان نے 2013 میں اتحادختم کرلیا، اور ترکی میں اس کے اثاثوں کی چھان بین شروع کردی ،
بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے لیڈروں کو جب سزائے موت سنائی گئی تو طیب اردگان نے ان کی سخت ترین مخالفت کی ، جب کہ گولن نے بنگلہ دیشی حکومت کی حمایت کی،
غزہ میں معصوم فلسطینی بچوں اور عورتوں پہ اسرائیلی فوجیوں کے ظالمانہ وبہیمانہ اقدامات کے خلاف سب سے مضبوط آواز عالم اسلام سے طیب اردگان کی تھی ، جب کہ گولن اسرائیلی اقدامات کی حمایت اور ان کو اس کا اندرونی معاملہ قرار دیتا رہا ،
غزہ کے مظلومین کے لئے 2013 میں غذائی اجناس پہ مشتمل ایک فلوٹ بھیجا گیا ، جسے اسرائیلی فوجوں نے بیچ سمندر کے روک لیا، پوری دنیا سے گولن کی واحد آواز اسرائیل کے حق میں اٹھی ، کہ انہیں امداد لیجانے سے قبل اسرائیل سے اجازت لینی چاہئے تھی ،
رجب طیب اردگان کے خلاف 2013 میں گیزی پارک میں ہونے والے مظاہرے کی کرتا دھرتا گولن کی خدمت تحریک ہی تھی اور نوے فیصد سے زائد مظاہرین کا تعلق گولن تحریک ہی سے تھا،
اسرائیل اور صیہونیوں سے قریبی اور مضبوط تعلقات اور ان مذکورہ بالا وجوہات کی بناء طیب اردگان نے فیصلہ کیا، کہ ہر سطح پہ گولن تحریک سے وابستہ افراد کے ملکی واسلامی مفاد کے خلاف اقدامات کو سبوتاژ کیا جائے گا ، پچھلے تین سالوں میں اس سلسلہ میں کافی مؤثر اقدامات کئے گئے ، اور ہزاروں گولنی افراد کو مختلف محکموں سے کان پکڑ کے باھر نکال دیا گیا،
جس کے نتیجہ میں طیب اردگان کی حکومت کو فوج میں موجود اپنے حامیوں کے ذریعہ ختم کرنے اور ملک میں مارشل لاء لگانے کی کوشش کی گئی ، اس بار تو اردگان اللہ کی رحمت اور عوام کی مدد سے بچ گئے ہیں ، لیکن امریکی ، ایرانی اور صیہونی آلۂ کار مستقبل میں بھی طیب اردگان کو چین سے نہیں بیٹھنے دیں گے ، اگر ان کا مکمل قلع قمع نہیں کیا جاتا۔
رجب طیب اردگان کو اب پہلے سے بھی بہت زیادہ اپنے عوام کے قریب ہونا پڑے گا ، اور ملکی و عوامی فلاح و بہبود کے لئے اپنا تن من دھن نچھاور کرنا پڑے گا ، اللہ کریم تُرکی کے غیور و بہادر مُسلمانوں ہمیشہ اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے اور اندرونی و بیرونی دشمنوں سے ان کی
حفاظت فرمائے ؛؛آمین؛؛

Comments

comments

Leave a Reply