امن کی جنگ اور اسکا انجام

فرانس میں چرچ پہ داعش کے حملے کے بعد وہاں کے صدر فرانسوا اولاند نے کہا ہے کہ اسلامی شدت پسندوں سے یورپ کو لاحق خطرات کبھی بھی اتنے سنگین نہیں تھے، جتنے اب ہیں ۔۔۔

کیا کروں ، بہت سے احباب کی نازک طبعیتوں پہ گراں تو گزری گی یہ بات لیکن پھر دھراتا ہوں ۔۔ سمندر کی لہروں کے حوالے کئِے گئے ایک شخص نے کئی برس قبل یورپ کو ایک پیشکش کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ خود کو امریکی جنگ سے الگ کریں اور مسلم خطوں سے جڑے تنازعات کا حصہ بننے سے گریز ۔۔۔

اس عالمی دھشت گرد نے یورپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہماری مثال اس شخص کی سی ھے جو طوفانی رات میں سمندر میں ایک تختے پہ سوار ہو اور خوفناک بارش برس رہی ہو ۔ ہمارے پاس کھونے کو کچھ نہیں ، لیکن تمہارے پاس بہت کچھ ھے ، امن تحفظ سلامتی شخصی آزادی مساوات اور معیشت ۔۔۔۔

تب ، فہم و فراست رکھنے والی مہذب دنیا نے مذاکرات کی اس دعوت کا مذاق اڑاتے ہوئے رد کردیا اور کہا تھا کہ ہم تم سے نمٹ لیں گے ۔۔۔۔

بہرحال ، پیشکش اور عالمی دھشت گرد کو دنیا سے گزرے چند ہی برس ہوئے ہیں اب جو کچھ یورپ میں ہو رہا ھے اس کا تو مچھلیوں کی خوراک بننے والے اس شخص نے بھی سوچا نہیں ہوگا ۔۔۔۔

دولت اسلامیہ یورپ دشمنی میں ہر حد کو عبور کرچکی ہے ۔ اسے رائے عامہ کی پروا ھے نہ ہی اپنا سافٹ امیج پیش کرنے میں دلچسپی ۔۔۔۔

مہذب دنیا کے بھی کیا کہنے ، ایک زمانے میں حکمتیار بنیاد پرست لگتا تھا اسے راستے ھٹا کر مطمئن ہوئے تو طالبان آگئے ان سے پریشان تھے کہ القاعدہ نیویارک لندن میڈرڈ پہنچ گئی اس سے نمٹ ہی رھے تھے کہ دولت اسلامیہ میدان میں اتر گئی ، اسکے آنے کے بعد جو کچھ ہورہا ھے وہ آپ مجھ سے زیادہ بہتر جانتے ہیں ۔۔۔۔
کہتے ہیں جو بوئے گا، وہی تو کاٹے گا ۔۔۔

سو ، مسلمانوں کو تو اپنی اداوں پہ غور کرنے کی ضرورت ہمیشہ سے ہی رہی ھے ، لیکن یورپ امریکا بھی اپنی پالیسیوں پہ توجہ دے دیں تو کوئی بری بات نہیں ، ممکن ھے کہ انسانوں کا کچھ بھلا ہوجائے ، شاید پرامن دنیا کا خواب ادھورا نہ رھے تعلیم ترقی خوشحالی سب کا مقدر بن جائے ؟؟ کیا خبر یہ جادو کی چھڑی گھوم جائے اور سب بدل جائے ؟؟؟؟ یہ ناممکن کی حد تک مشکل ضرور ھے لیکن امید ہی تو جوت جگاتی ھے ۔۔۔

کبھی کبھی محسوس ہوتا ھے کہ ، صرف عرب بادشاہوں کو ہی نہیں یورپ ، امریکا کے صدور و وزیر اعظموں کو بھی تنہائی میں وہ عالمی دھشتگرد یاد آتا ہوگا جس نے امن کی بنیاد رکھنے کے لئیے ایک آفر دی تھی ، جسے نقار خانے میں طوطی کی آواز سمجھ کرسنا ہی نہ گیا ، کبھی کبھی ہی سہی ، یاد تو آتا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments

comments

Leave a Reply