امریکی مفاد کی جنگ اور ہماری حمایتیں

سن 2002 میں کینیڈا کے ایک مصنف رچرڈ سینڈرز نے ایک آرٹیکل لکھا تھا کہ امریکہ کس طرح جنگ شروع کرتا ہے۔ اس آرٹیکل میں مصنف نے تفصیلی جائزہ لیا ہے کہ امریکہ کو جس ملک میں جنگ چھیڑنی ہوتی ہے اس ملک میں کس طرح لابنگ کی جاتی ہے، اس ملک کے خلاف کس طرح میڈیا کے ذریعے پرو پیگنڈہ کیا جاتا ہے اور خود ہی اس پروپیگنڈہ میں اصلی رنگ بھرنے کے لیئے مختلف واقعات اور حادثے کئے جاتے ہیں اور بالآخر کبھی جمہوریت کے ذریعے، کبھی فوجی آمریت کے ذریعے ، کبھی عوام کے ذریعے اور کبھی بین القوامی تنظیموں کے ذریعے اس ملک میں خانہ جنگی کرائی جاتی ہے ۔ یہ ریسرچ جن واقعات سے اخذ کی گئی ہے اس میں 1846 میں میکسیکن امریکی جنگ، 1898 میں ہونے والی اسپین امریکی جنگ، 1915 میں شروع ہونے والی پہلی جنگ عظیم، 1941 میں ہونے والی دوسری جنگ عظیم، 1950 میں ہونے والی کوریا کی جنگ، 1964 میں ہونے والی ویتنام کی جنگ وغیرہ کے حوالے دیئے ہیں کہ کس طرح جنگ کی پلاننگ کرنے والوں نے جنگ سے پہلے اسکے لیئے حالات سازگار بنائے۔ یہ رپورٹ ہمارے ایک فیسبکی دوست ‘ابو معصب’ نے اپنی وال پر شئیر کی تھی، میں نے وہ رپورٹ سرسری سے دیکھ کر بند کردی کہ فارغ وقت میں تفصیل سے دیکھوں گا، مگر شام میں وہ رپورٹ انکی وال پر موجود نہیں تھی۔ اگلے دن ابو معصب بھائی سے جب اس پوسٹ کے متعلق دریافت کیا تو وہ بھی شدید حیرت میں پڑ گئے کیونکہ نہ صرف وہ رپورٹ انکے علم میں لائے بغیر فیس بک انتظامیہ نے ڈیلیٹ کردی تھی بلکہ ابو معصب بھائی کو اپنی شناخت کے لیئے میسج بھی بھیج دیا گیا،۔بحر حال اور بھی ان گنت زرائع سے یہ بات تصدیق شدہ ہے کہ امریکہ نے اپنے مفادات کی خاطر آدھی دنیا میں آگ جلا رکھی ہے اور لاکھوں لوگ اس مفاد کی آگ کا ایندھن بن چکے ہیں۔ افغانستان، عراق اورگلف بہار اس کی تازہ مثالیں ہیں۔

حالیہ اور سب سے جدید واقعہ ترکی کا ہے، اور اس بات کے بین ثبوت بھی موجود ہیں کہ ممکنہ بغاوت میں بھی امریکہ کا شیطانی دماغ ہی کار فرما تھا، اور اس ناکام بغاوت کے بعد بھی تاحال سازشوں کے تانے بانے بنے جارہے ہیں۔ اب جنگ دوسرے مرحلے میں ہے، جہاں ایک طرف کنٹرولڈ میڈیا کے ذریعے بے شمار غلط فہمیاں پھیلائی جارہیں ہیں، دوسری طرف ایمنسٹی انٹر نیشنل اور اس جیسی دوسری تنظیموں کے ذریعے ان پروپیگنڈے کو فیول فراہم کی جارہی ہیں۔

دوسری طرف کچھ ذیادتیاں یقینا ترکی کی جانب سے بھی ہو رہیں ہونگی، ترکی کو کلین چٹ بھی نہیں دی جاسکتی ، ظلم جو بھی کرے قابل مذمت ہے لیکن اب سوال یہ ہے کہ اس طرح کی صورتحال میں ہماری ہمدردی اور سپورٹ کس کے ساتھ ہونی چاہیئے؟ ایک ایسے ملک کے ساتھ جس نے آدھی دنیا میں خون کا بازار گرم کر رکھا ہے؟ جس کے دہرے اور دجل سے پر معیار نے انسانیت کے چیتھڑے اڑادیئے ہیں یا ایک ایسے ملک کے ساتھ جو ابھی اس خونخوار درندے کا نیا شکار ہے؟ پرنٹ اور الیکٹرک میڈیا رائے عامہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، کیا اسوقت ایسے تجزئیے جس میں ترکی کی غلط پالیسیوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے ،جو ہو سکتا ہے حقیقت پر ہی مبنی ہوں، امریکی سازشوں کو مزید فیول فراہم کرنے میں معاون نہیں ہونگے؟

اویس اکبر

Comments

comments

Leave a Reply