ظفر اقبال کی معشوقہ پنجاب کی اشاعت پر ایک تبصرہ

ظفرجی کا شمار سوشل میڈیا کے ان گنے چنے لکھاریوں میں ہوتا ہے جو اپنی وال سیلفیز یا اوٹ پٹانگ اسٹیس میں برباد کرنے کی بجائے بامقصد تحاریر سے آباد رکھتے ہیں- فیس بک پر سلسلہ وار تحاریر متعارف کرانے کا سہرا بھی انہی کے سر ہے-

ظفرجی بنیادی طور پر جدید طرز کے ناول نگار ہیں- سوشل میڈیا پر ان کے مشہور ناولز میں ” دلی کے شعلے” ، “ڈیڑھ صدّی کا قصّہ” اور “معشوقہء پنجاب” مشہور ہیں- آج کل ” عشق کے قیدی” کے نام سے بھی ان کا ایک ناول زیرِ تکمیل ہے- اگرچہ وہ ہر بار ایک نئے اور اچھوتے موضوع کا انتخاب کرتے ہیں لیکن جو شہرت ” معشوقہء پنجاب” نے سمیٹی وہ شاید ہی کسی اور کے حصّے میں آئ ہو- یہی وجہ ہے کہ اشاعت کے ساتھ ہی اس پہلا ایڈیشن ہاتھوں ہاتھ فروخت ہو رہا ہے-

“معشوقۂ پنجاب” اپنے اندر قوس و قزح کے بے شمار رنگ لیے ہوئے ہے یہ بیّک وقت تاریخ بھی ہے ، اور تصوّف بھی- کہیں پنجاب کی لوک روایات کا سنہرا عکس ذوق کے آئینے کو جگمگا دیتا ہے، اور کہیں عشق کی گرمی کو پنجابی کے مشہور شاعر وارث (1720ء تا 1780ء) کے تخیل اور سخن آرائی سے تقویت ملتی ہے۔ پھراس سب کے بیچوں بیچ مصنف کے حسین مزاح سے بھر پور جملے تحریر کی خوشنمائی کو دوبالا کرتے ہیں۔

مشہور لکھاری اور ماہر علوم تصوّف نعمان بخاری صاحب نے ناول ھذہ پر کیا خوب تبصرہ فرمایا ہے:

” اس ناول میں قاری کو قدیم و جدید ادب کا دلنشیں امتزاج بھی ملے گا اور دیہی ثقافت سے شناسائی بھی۔ سخن و تہذیب کی اعلی روایات بھی اور شرم و حیا سے مزین محبت کی چاشنی بھی۔ دردِ دل بھی اورشاہ صاحب کی طبی حکمت سے استفادہ بھی۔ پھر اس سب خامہ فرسائی میں تمدنی، مسلکی اور مذہبی تفریق پر باکمال طنز بھی کتاب کی زینت ہے”

” معشوقہء پنجاب” کی تھیم اور بیک گراؤنڈ صاحبِ کتاب ، دیباچے میں کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں:

” میں نے سخن کے وارث کو اس کے سخن کے اندر تلاش کرنے کی مقدور بھر سعی کی ہے- اور اسی منظرنامے کو تاریخ اور اس دور کے مروجہ تصوف میں کھنگال کر شخصیّتِ وارث کا وہ روپ دکھانےکی کوشش کی ہے جو آج تک ہم سے اوجھل رہا ہے”

کتاب ھذہ کے بارے میں تیمور افغانی چیئر مین وارث پرھیا و ایڈیٹر ہفت روزہ ” پنج پانڑیں” رقم طراز ہیں :

” یہ عہدِ وارث کا ایک خوبصورت تمثیلی سفرنامہ ہے جس میں مصنف نے کمال ہنرمندی سے قاری کو اڑھائ سو سال پہلے کے قصور ، دیپالپور ، پاکپتن شریف اور ملکہ ہانس کی سیر کروا دی ہے- پڑھنے والا تحریر کے سحر میں کھو کر نہ صرف عہدِ وارث کا چشم دید گواہ بن جاتا ہے بلکہ اُس گلاب سے مشکبار بھی ہو جاتا ہے جس کی معطر شیشی صدیوں پہلے وارث نے نچوڑی تھی”

اسی طرح معروف کالم کار اور صحافی جناب رعایت اللہ فاروقی صاحب کے بقول ” معشوقہء پنجاب حیاتِ وارث سے پردہ اٹھانے کی ایک نہایت خوبصورت اور سحر انگیز ادبی کوشش ہے- ظفرجی کا شمار اردو کے چند ایسے ابھرتے ناول نگاروں میں کیا جا سکتا ہے جن سے بجا طور پر یہ امید وابستہ کی جا سکتی ہے کہ وہ اردو ناول کے ارتقاء کو نئی جہت دینگے- ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ خالص ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے قلم کی روشنائی سے اپنی مٹی کی مہک پھوٹتی ہے”

ناول ھذہ میں مصنف خود کہانی کا ایک کردار بن کر اڑھائ صدی پہلے کے پنجاب کی سیر کرتا ہے- وہ گاؤں گاؤں کی سیر کرتا مساجد و مندر اور خانکاہوں کا احوال موجودہ دور سے تطبیق کرتے ہوئے کچھ یوں پیش کرتا ہے کہ پڑھتے ہوئے کبھی ہنسی روکنا مشکل ہو جاتا ہے کبھی آنسو- مثلاً ایک جگہ مسجد کا احوال کچھ یوں بیان کرتے ہیں:

” ایک دبلے پتلے طالب علم نے مسجد کی چھت پر چڑھ کر اذان دی- لاؤڈ اسپیکر نہ ہونے کا تصور ہی میرے لئے خوش کن تھا- بیڑا غرق ہو اس انگریز کا جس نے یہ کان پھاڑ آلہ ایجاد کیا اور یہ ڈھکوسلہ ہمارے سیاستدانوں اور مولویوں کے سر منڈھ کر خود کانوں پر ہیڈ فون چڑھائے بیٹھا ہے….”

” میں نے شلوار اوپر چڑھائ اور کوزے کی جستجو میں ادھر ادھرنظر دوڑائ- باغیچے کے عقب میں ایک لاوارث کوزہ نظر آیا- سو اسی پر قبضہ جمایا- کوزے کا وزن کم و بیش پانچ کلو تھا- اسے بغل میں دبوچ ہی رہا تھا کہ ایک مولوی شِکرے کی طرح مجھ پر جھپٹا….

” نِکّا وضو کرنا ایں کہ وڈّا ؟ ” اس نے کہا-

میں ششدر کھڑا رہ گیا- پتا نہیں کون سافرقہ تھا جس نے وضو کے سائز بھی متعیّن کر رکھے تھے”

اسی طرح اس دور کی سیاست کا احوال کچھ اس طرح لکھتے ہیں:

” پنجاب کی دکھیاری ، درداں ماری عوام سِکّھا شاہی سے تنگ آتی تو ایڑھیاں اٹھا اٹھا کر “قندھاری مارشل لاء”کی راہ دیکھتی – جب احمد شاہ ابدالی کے گھوڑے ان کے کھیت اجاڑنے لگتے تو ہاتھ اٹھا اٹھا کر” جمہوری سکھّا شاہی” کی آرزو کرتی- یہ لوگ بھی ہمارے ہی پیر بھائ تھے”

“معشوقہء پنجاب” عشقِ مجازی سے عشق حقیقی تک کا ایک خوبصورت سفرنامہ ہے جس میں مصنف ایک طالب علم کی حیثیت سے قدم قدم پر عشق صوفیانہ کی منازل سے خود بھی آشناء ہوتا ہے اور اپنے قارئین کو بھی ہمکنار کرتا ہے-:

” غلام دین نے اذان دی تو میں نے پانی سے بھی پہلے پکوڑوں کی طرف ہاتھ بڑھایا- شاہ صاحب نے نرمی سے میرا ہاتھ روک لیا-

“اے نئیں کھانڑیں….باقی سب کچھ تہاڈا “

“کیوں مُرشد…..؟” میں نے منہ بنا لیا- شاہ صاحب سے مجھے یہ امید نہ تھی-

“تُسّی برداشت نئیں کر سکو گے” شاہ صاحب نے کہا-

” کیوں مرچیں زیادہ ہیں ؟؟ ” میں نے پوچھا-

” نہیں…..تپش ” شاہ صاحب نے جواب دیا-

“میں ٹھنڈے کر کے کھا لوں گا” میں نے کہا-

“اے ٹھنڈے وی نئیں پچنے تہانوں” شاہ صاحب نے پانی پیتے ہوئے کہا-

“مجھے پکوڑوں سے عشق ہے” میں نے ضِد کی-

“تے ایہہ عشق والے پکوڑے نیں” شاہ صاحب نے جواب دیا-

میں سمجھ گیا اور فوراً ہاتھ کھینچ لیا”

اسی طرح ایک اور مقام پر سفرِ عشق کی تیاری کچھ ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں :

” شاہ صاحب اُٹھے اور حوضی کے پانی سے وضو کرنے لگے-

آتشِ عشق بجھانے کی یہ آخری سعی تھی- کمال کی سادگی تھی- عشق کی آگ وضو کے پانی سے بجھ پاتی تو وضو خانے عاشقوں سے بھرے ہوتے- یہ الاؤ تو آنسوؤں کے غُسل سے بھی نہیں بجھتا”

غرض کہ لاجواب ناول ہے اور ایک ایسی نادر تحریر جس کی ایک مدت سے آرزو کی جا رہی تھی-

اویس اکبر

Comments

comments

Leave a Reply